Monday, 9 May 2016

خواتین کےفیسبک سٹیٹس کی قدرومنزلت..


’’آج میں نے لنچ میں بریانی کھائی ہے، آپ سب نے کیا کھایا ہے؟
‘‘سترہ سو کمنٹس، اڑھائی ہزار لائیکس۔۔۔
مورخ لکھے گا کہ اس نے اس کمنٹ باکس میں دنیا کہ بہترین شیف دیکھے جو مختلف اقسام کی بریانی بنانے کے دعویدار نکلے. ایک جیالے نے تو حد کر دی بریانی کی ایک سو بیس اقسام گنوا ڈالیں.

آج مجھے زور سے چھینک آئی.

بائیس سو کمنٹس چار ہزار لائکس.
افف یہ کیا کر دیا.
کیا ھوا. زکام کیوں ھوا.

ضرور کچھ الٹا سیدھا کھایا ھو گا.
چلیں فلاں میڈیسن لیں فلاں سیرپ لیں

اگر کوئی ڈاکٹر کمنٹس پڑھ لے تو بے ہوش ھو جائے کہ آخر میں اتنے سال دھکے کیوں کھاتا رہا ..؟؟
بڑے بڑے دانشور اس سوچ میں ہیں کہ آخر لڑکوں میں اس وقت ڈاکٹر کی روح آ کہاں سے جاتی ھے.؟؟

ادھر ایڈمن کون ھے مجھے اس سے بات کرنی ھے.

بارہ سو لائیکس تین ہزار کمنٹس.
جو بولیں. جی فرمائیں

آپکو اس پوسٹ پہ شرافت اور فرمانبرداری کی انتہا دیکھنے کوملے گی.
پانچ سات سو ایڈمن سامنے آ جائیں گے کہ اگر آپکو گروپ کے کسی ممبر سے شکایت ھے تو ابھی اس کو گروپ سے دھکے مار کر نکال دیا جائے گا. کچھ بھائی تو اس وقت مارک زکر برگ بننے کہ بلکل قریب ھوتے ہیں کہ ہم گروپ تو کیا ایک اور فیسبک آپ کے لیے بنا سکتے ہیں

’’آج پاپا نے مجھے بہت ڈانٹا، آج کے بعد میں فیس بک پر نہیں آؤں گی، اکاونٹ ڈی ایکٹیویٹ کرنے لگی ہوں‘‘

اور پھر پچیس سو سے تین ہزار بھائی اسے سمجھانے میں لگ جاتے ہیں کہ اگر وہ فیس بک سے چلی گئی تو تیسری جنگ عظیم کا کتنا زیادہ خدشہ ہے۔۔۔۔

جنگ سے اگر بچ بھی گئے تو فیسبک ضرور اجڑ جائے گی...!

No comments:

Post a Comment